رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ۙ واَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡن ؕ۔
بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ۔
حلال ذریعہ معاش۔
دنیاوی زندگی کی پہلی ضرورت حلال ذریعہ معاش حاصل کرنا ہے، جس کے لیے اللہ ربّ العزت نے تجارت کا حکم دیا۔ شاید اس لیے کہ قیامت کے دن جب بندے سے دین کے ستونوں کی ادائیگی کے بارے میں سوال کیا جائے، تو وہ وقت کی تنگی کو بطورِ عذر پیش نہ کر سکے۔ کیونکہ تجارت ایک ایسا معاشرتی حلال عمل ہے جس میں انسان اپنی سہولت اور وقت کے انتخاب میں کسی حد تک آزاد ہوتا ہے، اور یوں وہ دین و دنیا کے فرائض کے درمیان توازن قائم کرنے کی عملی صلاحیت رکھتا ہے۔
سوال: تِجارتی خود مالِک ہے۔ اِس لِیے وہ وقت کا پابند نہیں۔ مگر نوکری کرنے والا کِیا کریں؟
جواب: نمبر۱۔ نوکر کو صِرف ایک ارکان، نماز میں مُشکِل ہو سکتی ہے۔ وہ بھی غیر مُسلِم مُمالِک میں۔ اِس کے لِیے نوکری جُوائین کرنے سے قبل شرط رکھی جا سکتی ہے۔ اور یہ صِرف تب مُمکِن ہے، جب اِس بات پر کامِل ایمان رکھتا ہو کہ: روزی رازِق کے ہاتھ ہے۔
جواب نمبر۲۔ خُدا نے جُمعہ کے روز کے علاوہ باقی دِنوں کو معاش تلاش کرنے کے لِیے روشن کِیا، بلکہ جمعہ کی نماز کے بعد بھی معاش تلاش کرنے کا حکم دیا۔ جبکہ رات بنائی عِبادت اور آرام کے لِیے۔ خُدا نے قُران میں دِن کی نماز میں صرف جُمعہ کا ذکر کیا ہے۔ علاوہ ازیں ظہر اور عصر کا ذکر تسبیح کے لیے کیا گیا ہے۔ نہ کہ نماز کے لیے۔
اِنشاءﷲ زِندگی رہی تو مستقبل میں نماز کے باب میں اِس مسلے کو ثابِت کرونگا۔ اِس باب میں موضوع بھٹک جائیگا۔ شُکرِیہ۔
وَّجَعَلۡنَا الَّيۡلَ لِبَاسًا ۙ ﴿۱۰﴾ وَّجَعَلۡنَا النَّهَارَ مَعَاشًا ﴿۱۱﴾
Q-78:10-11اور ہم نے رات کو پردہ/لباس بنایا ہے ﴿۱۰﴾ اور دن کو معاش (روزگار) کمانے کا وقت بنایا ہے۔ ﴿۱۱﴾
خدا کا حکم ہے: جب جمعہ کی نماز ادا ہو جائے تو خدا کے فضل (رزق) کی تلاش میں زمین پر منتشر ہو جاؤ۔ یہ آیت صراحت کے ساتھ بتاتی ہے کہ آپ کو کوشش سے جو بھی رزق ملتا ہے وہ درحقیقت خدا کا دیا ہوا فضل ہے۔ وہ جس کے لیے چاہتا ہے اسے وسعت دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے محدود کر دیتا ہے۔ بے شک وہ ہر چیز سے باخبر ہے۔
اگر کوئی اپنی کمائی ہوئی دولت کے لیے اپنی محنت پر فخر کرتا ہے تو غور کریں! کیا سب سے زیادہ محنتی وہ نہیں ہے جو اپنے سر پر اینٹیں، پتھر اور مٹی ڈھوتا ہے؟ اللہ تمام مومنین کو تکبّر سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوۡا فِى الۡاَرۡضِ وَابۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِ اللّٰهِ ﴿۱۰﴾
Q-62:10پس جب نماز ادا ہو جائے، تو زمین میں پھیل جاؤ، اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔
لَهٗ مَقَالِيۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِۚ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيَقۡدِرُؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ ﴿۱۲﴾
Q-42:12اسی کے ہاتھ میں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں۔ وہ جِس کے لِیے چاہے رزق کشادہ کر دیتا ہے، اور جس کے لیے چاہے تنگ کر دیتا ہے۔ بے شک وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔
اُمّتِ شعیبؑ کی تجارت۔
قومِ مدین ایک خوشحال اور آسودہ قوم تھی، لیکن جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو خوشحالی اور فراخ روزی عطا کرتا ہے تو وہ قوم اکثر تکبر میں اپنے ربّ کو فراموش کر بیٹھتی ہے۔ چنانچہ قومِ مدین میں بھی تجارت کے نام پر لوٹ مار، ناپ تول میں کمی، اور دھوکے دہی عام ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو راہِ راست پر لانے کے لیے ان ہی کے بھائی حضرت شعیبؑ کو نبی بنا کر مبعوث فرمایا۔ انہوں نے اپنی قوم کو اللہ کا پیغام سنایا۔
وَاِلٰى مَدۡيَنَ اَخَاهُمۡ شُعَيۡبًا ؕ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ؕ وَلَا تَـنۡقُصُوا الۡمِكۡيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ اِنِّىۡۤ اَرٰٮكُمۡ بِخَيۡرٍ وَّاِنِّىۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ مُّحِيۡطٍ ﴿۸۴﴾
Q-11:84اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا ۔ اس نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے اور ناپ تول میں کمی نہ کرو میں تمہیں خوشحال دیکھ رہا ہوں لیکن مجھے تم پر ایک وسیع دن کے عذاب کا خوف ہے۔ (84)
نبی شعیبؑ کے ذریعے اللّٰہ کا پیغام۔
نبی شعیبؑ نے اپنی قوم کو اللہ کا پیغام سنایا۔
"اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اور اس دن سے ڈرو جب تم اُس اللہ کے حضور کھڑے کیے جاؤ گے، جس نے تمہیں اور پہلی مخلوق کو پیدا فرمایا۔ اور ناپ تول میں کمی نہ کرو۔ پورا ناپو، انصاف کے ساتھ ترازو قائم کرو، لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم نہ کرو، اور زمین میں فساد پھیلاتے ہوئے ظلم نہ کرو، کیونکہ اللہ زمین میں فساد اور ناانصافی کو پسند نہیں کرتا۔ اور اللہ کے حکم کے مطابق جو حلال و پاکیزہ منافع بچ رہے، وہی تمہارے لیے بہتر اور زیادہ بابرکت ہے، اگر تم ایمان رکھتے ہو"۔
وَيٰقَوۡمِ اَوۡفُوا الۡمِكۡيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تَعۡثَوۡا فِى الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴿۸۵﴾ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۚ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ﴿۸۶﴾
Q-11:85-86اور اے میری قوم پوری ناپ دو۔ اور انصاف کے ساتھ تولو۔ اور لوگوں کو ان کے حق سے محروم نہ کرو اور زمین میں فساد پھیلاتے ہوئے ظلم نہ کرو۔ (85) جو کچھ اللہ نے تمہارے لیے چھوڑا ہے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مومن ہو۔ اور میں تم پر نگہبان نہیں ہوں۔ (86)
وَاِلٰى مَدۡيَنَ اَخَاهُمۡ شُعَيۡبًا ؕ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ؕ قَدۡ جَآءَتۡكُمۡ بَيِّنَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ فَاَوۡفُوا الۡكَيۡلَ وَالۡمِيۡزَانَ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تُفۡسِدُوۡا فِى الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِهَا ؕ ذٰ لِكُمۡ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۚ ﴿۸۵﴾
Q-07:85اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا ۔ اس نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیل آچکی ہے، لہٰذا ناپ تول پورا کرو اور لوگوں کے حق میں کمی نہ کرو اور زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد نہ کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مومن ہو۔
اَوۡفُوا الۡـكَيۡلَ وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَۚ ﴿۱۸۱﴾ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِۚ ﴿۱۸۲﴾ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تَعۡثَوۡا فِى الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَۚ ﴿۱۸۳﴾ وَاتَّقُوا الَّذِىۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِـبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَؕ ﴿۱۸۴﴾
Q-26:181-184ناپ تول پورا کرو اور خسارہ پانے والوں میں شامل نہ ہو۔ (181) اور برابر ترازو سے تولو۔ (182) اور لوگوں کو ان کے حق سے محروم نہ کرو اور زمین میں فساد برپا نہ کرو۔ (183) اور اس سے ڈرو جس نے تمہیں اور اوّل مخلوق کو پیدا کیا۔ (184)
فَكُلُوۡا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا وَّاشۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴿۱۱۴﴾
Q-16:114پس اللہ کی دی ہوئی حلال اور پاکیزہ روزی سے کھاؤ اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔
قوم مدین پر عذاب۔
اللہ تعالیٰ زمین و آسمان سے ان لوگوں پر برکتوں کے دروازے کھول دیتا ہے جو ایمان لاتے ہیں، اللہ کے احکام کی حفاظت کرتے ہیں، اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں، اور عملِ صالح اختیار کرتے ہیں۔ مومن کبھی تکبر نہیں کرتا، کیونکہ وہ خوب جانتا ہے کہ یہ زمین اللہ کی ہے؛ ہم سب تو اس کے عارضی باشندے ہیں۔ آج ہم ہیں، کل کوئی اور تھا، اور آنے والے کل میں کوئی اور ہوگا۔
لیکن جس کا دل ایمان سے خالی ہو، خواہ وہ بظاہر مسلمان ہی کیوں نہ ہو، وہ شیطان کی پیروی میں جھوٹ، مکّاری، بے ایمانی، ظلم اور فسادِ ارضی کی راہ اختیار کرتا ہے۔ کم تولنا، کم ناپنا، سود لینا، بدکاری، بھائیوں کی جاسوسی کرنا، نشہ آور اشیاء فروخت کرنا، بے جا قسمیں کھاکر دھوکا دینا اور لوگوں کے مال ناحق ہڑپ کرنا اس کے معمول بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اللہ کے احکام کی پاس داری نہیں کرتے، لہٰذا اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی گرفت فرماتا ہے اور ان پر اپنا عذاب نازل کرتا ہے۔
قوم مدین نے بھی نبی شعیبؑ کی تکذیب کی تھی۔ لہٰذا خدا کے عذاب نے ایک زلزلہ کی شکل میں اُن کو پکڑ لیا۔ وہ اپنے گھروں میں بےجان پڑے رہ گئے۔ گویہ وہ وہاں کبھی آباد ہی نہ ہوے تھے۔ شعیبؑ کو نقصان پہنچانے کی خواہش رکھنے والے یہ لوگ خود خسارہ میں آگئے۔
وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡقُرٰٓى اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَـفَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ وَلٰـكِنۡ كَذَّبُوۡا فَاَخَذۡنٰهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ﴿۹۶﴾
Q-07:96اگر بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور اللہ سے ڈرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کو ان کے اعمال کے بدلے پکڑ لیا۔
اَوَلَمۡ يَهۡدِ لِلَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡاَرۡضَ مِنۡۢ بَعۡدِ اَهۡلِهَاۤ اَنۡ لَّوۡ نَشَآءُ اَصَبۡنٰهُمۡ بِذُنُوۡبِهِمۡ ۚ وَنَطۡبَعُ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾
Q-07:100کیا ان لوگوں پر واضح نہیں ہوا جو زمین کے پہلے باشندوں کے بعد اب اس کے وارث ہیں کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کو مصیبت میں ڈال دیں اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیں تاکہ وہ نہ سنیں؟
فَاَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِىۡ دَارِهِمۡ جٰثِمِيۡنَ ۚ ﴿۹۱﴾ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا ۛۚ اَ لَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَانُوۡا هُمُ الۡخٰسِرِيۡنَ ﴿۹۲﴾
Q-07:91-92پس ان کو زلزلے نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں بے جان پڑے رہے۔ (91) جن لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا وہ ایسے برباد ہوئے، کہ گویا وہ ان میں کبھی آباد ہی نہیں ہوئے تھے۔ لہٰذا جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا وہی خسارے میں رہے۔ (92)
آج کے وقت میں خدا کے عذاب۔
آج کے دور میں اللہ کے عذاب کی مختلف صورتیں سامنے آتی ہیں، مثلاً رزق میں بے برکتی، اولاد کا نااہل اور نافرمان ہو جانا، خاندان میں بیماریوں کا بڑھ جانا، والدین کی زبان سے بددعا کا نکلنا، دِلوں کا سکون اُٹھ جانا، اور موت کا ذلت آمیز یا سخت صورت میں آنا۔ یہ سب دنیا میں عبرت کی نشانیاں ہیں، جبکہ آخرت میں ان کے لیے کوئی حصہ باقی نہیں ہوگا۔
تِجارت حلال۔
یشک خُدا نے مومِنوں کے لِیے سُود کو حرام اور تِجارت کو حلال کِیا۔ مگر جِس تِجارت کو حلال کِیا گیا تھا، یہ وہ تِجارت نہیں ہے جو آج کل ہم کرتے ہیں۔
قَالُوۡۤا اِنَّمَا الۡبَيۡعُ مِثۡلُ الرِّبٰوا ۘ وَاَحَلَّ اللّٰهُ الۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا ؕ ﴿۲۷۵﴾
Q-02:275وہ کہتے ہیں کہ خرید وفروخت بھی سود جیسی ہی ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔
حلال تِجارت کی نوعِیت۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ تجارت ایسی ہونی چاہیے جو مومن کو اللہ کی تسبیح، نماز کے قیام اور زکوٰۃ کی ادائیگی سے غافل نہ کرے۔ مومن تاجر کے دل میں آخرت کا خوف ہمیشہ اس طرح زندہ رہنا چاہیے کہ وہی خوف اس کے نیک اعمال کو تقویت دے اور اسے خیر و صلاح کی طرف لے جائے۔ اللہ تعالیٰ ایسے تاجر کے نیک اعمال کو اپنی رحمت اور فضل سے دنیا و آخرت میں بہترین بدلہ عطا فرماتا ہے۔
یقیناً اللہ کے بہت سے مخلص بندے ایسی ہی پاکیزہ تجارت کرتے ہیں، اور ہم بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی تجارت کو طیب اور پاکیزہ بنائیں، اپنی دنیاوی مشغولیات کو شریعتِ الٰہی کے مطابق ڈھالیں، نہ کہ شیطانی طریقوں کے مطابق۔
ماپ تول میں دیانت، نشہ آور اشیاء، سود، جوا، بت پرستی اور لاٹری جیسے باطل و ناپاک ذرائع سے اجتناب!یہی وہ اصول ہیں جو تجارت کو بابرکت اور زندگی کو فلاح سے ہمکنار کرتے ہیں۔ ان شاء اللہ، ایسا تاجر دنیا میں بھی کامیاب ہوگا اور آخرت میں بھی سرخرو ہوگا۔
رِجَالٌ ۙ لَّا تُلۡهِيۡهِمۡ تِجَارَةٌ وَّلَا بَيۡعٌ عَنۡ ذِكۡرِ اللّٰهِ وَاِقَامِ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءِ الزَّكٰوةِ ۙ يَخَافُوۡنَ يَوۡمًا تَتَقَلَّبُ فِيۡهِ الۡقُلُوۡبُ وَالۡاَبۡصَارُ ﴿۳۷﴾ لِيَجۡزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحۡسَنَ مَا عَمِلُوۡا وَيَزِيۡدَهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖؕ وَاللّٰهُ يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴿۳۸﴾۔
Q-24:37-38وہ مرد جنکو تجارت یا خرید وفروخت خدا کے ذکر سے غافل نہیں کرتی۔ اور وہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں۔ وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل اور آنکھیں الٹ جائیں گی۔ ﴿۳۷﴾ تاکہ خدا اُن کو اُن کے ان بہترین اعمال کا اچھا صِلہ دیں، جو انہونے کیے۔ اور اپنے فضل میں سے مزید عطا فرمائے؛ اور ﷲ جِسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔ ﴿۳۸﴾
وَيۡلٌ لِّلۡمُطَفِّفِيۡنَۙ ﴿۱﴾ الَّذِيۡنَ اِذَا اكۡتَالُوۡا عَلَى النَّاسِ يَسۡتَوۡفُوۡنَ ﴿۲﴾ وَاِذَا كَالُوۡهُمۡ اَوْ وَّزَنُوۡهُمۡ يُخۡسِرُوۡنَؕ ﴿۳﴾ اَلَا يَظُنُّ اُولٰٓٮِٕكَ اَنَّهُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَۙ ﴿۴﴾ لِيَوۡمٍ عَظِيۡمٍۙ ﴿۵﴾ يَّوۡمَ يَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ ﴿۶﴾
Q-83:01-06ناپ تول میں کمی کرنے والوں پر افسوس۔ (1) وہ لوگ جو سامان خریدتے وقت اچھی طرح تولتے یا ناپتے ہیں۔ (2) لیکن جب وہ دوسروں کو دیتے ہیں تو کم کردیتے ہیں۔ (3) کیا یہ نہیں سمجھتے کہ وہ اٹھائے جائیں گے۔ (4) ایک عظیم دن کے لیے۔ (5) جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ (6)
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَالۡمَيۡسِرُ وَالۡاَنۡصَابُ وَالۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۹۰﴾
Q-05:90اے ایمان والو! درحقیقت نشہ، جوا، بت اور پانسے مکروہ ہیں۔ یہ شیطان کے کام ہیں۔ پس ان سے بالکل اجتناب کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
حلال روزی میں برکت۔
جو شخص ایک اللہ پر ایمان رکھتا ہے، اس کے لیے حرام رزق مناسب نہیں۔ مومن کے لیے تجارت میں جو حلال روزی میسر آئے، خواہ وہ مقدار میں کم ہی کیوں نہ ہو، وہی اس کے لیے بہتر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ حلال رزق میں برکت عطا فرماتا ہے۔ وہ اپنے مومِن بندوں پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتا ہے۔ اصل کامیابی کثرتِ مال میں نہیں، بلکہ پاکیزہ کمائی اور اس میں اللہ کی برکت سے ہے۔
اَوۡفُوا الۡمِكۡيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تَعۡثَوۡا فِى الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴿۸۵﴾
Q-11:85شعیبؑ نے اپنی قوم سے کہا: ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو، اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں کمی نہ کرو، اور زمین میں فساد پھیلانے والوں کی طرح نہ بنو.
بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۚ ﴿۸۶﴾
Q-11:86شعیبؑ نے اپنی قوم سے کہا: اللہ کی باقی رہ جانے والی نعمت (جو حلال اور جائز ہے) تمہارے لیے بہتر ہے۔ اگر تم ایمان والے ہو.
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ وَاشۡکُرُوۡا لِلّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴿۱۷۲﴾
Q-02:172اے ایمان والو! اللہ نے جو پاکیزہ رزق تمہیں دیا ہے، اس سے کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔
فَكُلُوۡا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا وَّاشۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴿۱۱۴﴾
Q-16:114پس اللہ کی دی ہوئی حلال اور پاکیزہ روزی کھاؤ اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔
وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡقُرٰٓى اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَـفَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ ﴿۹۶﴾
Q-07:96اور اگر (ان) بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے.
**********